ٹیڑھی زمینوںاور اجنبی لہجے کا شاعر : راہیؔ فدائی از شمس الرحمن فاروقی

 کم شاعر ایسے ہوں گے جن کا دیوان یوں ہی بے ارادہ کھولا جائے تو اس طرح کے شعر نظر پڑیں۔      ؎

سیل ِ آلام و طوفان کرب و بلا

خفتہ قوموں کی خاطر جرس چاہیے

اس تماشہ گر زندگی کے لیے

خرس و خر اور فیل و فرس چاہیے

کہیں اور سے ورق پلٹیں تو یہ شعر ملتے ہیں : ؎

متاع و مال ہوس حب آل سامنے ہے 

شکارخود کو بچا ‘ دیکھ جال سامنے ہے 

مجھے ملال ہے اپنی فلک نشینی پر 

یہی عروج کی حد پھر زوال سامنے ہے 

وہ باکمال سیاق و سباق پر حاوی

گزشتہ اس کی نظر میں مال سامنے ہے 

تھوڑا اور آگے بڑھیں تو دیکھتے ہیں : ؎

ہراک ماحول موسم ‘ راس آیا 

زمانے کے مناسب ہوگئے ہو 

سحر حسبِ ضرورت ہوگئی ہے 

کہ خود ہی صبح ِ کاذب ہوگئے ہو 

ذرا تو سوچ کہ یہ بھی کوئی سزا تو نہیں 

دعائے خیر سہی پھر بھی ساری رات نہ مانگ 

پڑھنے والا حیرت میں ہے ۔ زمینیں تیڑھی اور زیادہ تر نئی زبان کے ساتھ بے تکلف لیکن قادر الکلامی کا رویہ ‘ تجربہ سے گریز نہیں اور کلاسیکی اسلوب سے اچھی واقفیت یہ صفات کس طرح ایک شخص میں یک جا ہوجائیں  ؟ غزل کی وہ صفات جو کتابوں میں درج ہیں اور جن میں سے زیادہ تر کو مولانا حالی ؔ کے خیالات کا نتیجہ کہا جاسکتا ہے ‘ ان غزلوں میں نہیں ہیں ۔ یہ بات صحیح ہے کہ جدیدیت نے شاعر کو تجربہ کوشی اور آزاد بیانی کا جو حوصلہ دیا اس کے بغیر راہی ؔ فدائی کی شاعری وجود میں نہ آتی ۔ لیکن ہر شاعر اپنے معاصر ادبی ماحول ‘ روایت اور تخلیقی اپچ سے فائدہ اپنے ہی طور پر اٹھاتا ہے ۔ کسی کے لیے نئی خیال کی راہیں ہموار ہوتی ہیں تو کسی کے لیے زبان ایک چیلنج بن جاتی ہے ۔ راہی ؔ فدائی نے شروع ِ مشق میں مضامین کی تلاش پر زور طبع صرف کیا تھا۔ غزل میں جانوروں ‘ پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کا ذکر اور ذکر محض بیانیہ نہیں ‘ بلکہ مسلسل استعاراتی انداز کے ساتھ ‘ یہ نئی غزل میں راہی ؔ فدائی اور جنوبی ہند کے ان کے بعض ساتھیوں کی دین ہے۔ نامانوس زمینوں میں بے تکلف اور کثرت سے شعر کہنے کی رسم بھی ان لوگوں کی ڈالی ہوئی ہے ۔ راہی ؔ فدائی چوں کہ عربی اور مذہبیات کے میدان سے ہیں ‘ لہذا ان کے کلام میں عربی الفاظ کی فراوانی اور اخلاقی مضامین پر زور نظر آئے تو تعجب کی بات نہیں ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ مدرسے اور شریعت کے ماحول میں متانت اورتدیّن کی تربیت کے باعث اس ماحول کے پروردہ شاعروں کے مزاج میں فطری طور پر احتیاط ‘ زبان کے ساتھ بھی اور مضمون کے انتخاب میں بھی جابجا نظر آتی ہے ۔ اس کے بر خلاف راہی ؔ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مذہب کے آداب کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ لیکن ایسا لہجہ اختیار کرتے ہیں جسے عام طور پر ’’ ثقہ‘‘ اور متدین لوگوں سے منسوب نہیں کیا جاتا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے یہاں کبھی کبھی عہد نامہ ٔ قدیم کے اولیاء اور پیغمبروں سا تہدیدی ‘ موعظانہ لہجہ بھی نظر آجاتا ہے ‘ تو کبھی وہ’’ طنز ‘‘میں اتنے تند ہوجاتے ہیں کہ ان کا طنز کسی برہم روح کی چیخ معلوم ہونے لگتا ہے : ؎

اخلاق کی سند بھی چباکر نگل گئے 

جوع البقر ہے آج کے بندر ہیں بو العجب 

جن کی تہوں میں در عطش کی کمی نہیں !

عرفان و علم کے یہ سمندر ہیں بو العجب

در عطش ‘ جیسی ترکیب وضع کرنے والے شاعر کو ہم جتنی داد دیں کم ہے ۔ طنز بھی اپنے رنگ میں چوکھا ہے اور استعارہ بھی بالکل نیا ۔ اسی غزل کا اگلا شعر ہے : ؎

فطرت کے انقلاب سے دنیا بدل گئی 

بلی کے ساتھ موش مچھندر ہیں بو العجب 

مندرجہ ٔ ذیل شعر میں اعراب بدل کر لفظ کو ذومعنی میں استعمال کرکے تازگی پیدا کی ہے  : ؎

ملیں گے معتمد ہزار جا بجا مگر

نفوس معتمد کہاں سے لائو گے 

رجز مسدس سالم اردو میں کم برتی گئی ہے ‘ اگرچہ عربی میں عام ہے ۔ راہی ؔ فدائی نے اسے اس روانی اور صفائی سے برتا ہے کہ دل سے بے اختیار داد نکلتی ہے ۔ ؎

وہ تھا سبک رو ‘ اس کے سر کچھ بھی نہ تھا

اس پر کبھی اپنا ہنر حاوی نہ تھا 

تھی مصلحت رو باہ میری تاک میں 

خوش تھا تو میں ‘ میرا حدف کوئی نہ تھا 

دو ہی قدم چل کر شرافت گر پڑی 

ظلمت کدے میں خوف تھا ساتھی نہ تھا 

جدید شاعر کے بارے میں یہ سوال پوچھنا بہت معنی خیز نہیں ‘ بلکہ ایک طرح کی بے عقلی ہے کہ وہ کتنا بڑا شاعر ہے ؟ بڑوں کی محفل میں کہاں بٹھائے جانے کا حق دار ہے ؟ اس سوال کے بے معنی ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ادب میں عظمت کو چوٹیاں اور ضلالت کی گہرائیاں دوری سے دیکھے جانے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ جب تک ہمارے اور شاعر کے درمیان وقت کا فاصلہ نہ قائم ہو ‘ ہمیں اس کے بارے میں صحیح معلوم ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے معاصروں اور پیش روئوں میں کہاں نظر آتا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ جب تک ہم اس کے بعد آنے والوں کو بھی نظر میں نہ رکھ سکیں ‘ اس کی عظمت کے بارے میں ہمارا فیصلہ ادھورا رہے گا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شاعر معاصر ادب کی آماج گاہ میں خوب خوب یکہ تازیاں کرتا ہے ‘ میدان کا سراپا دکھاتا ہے ‘ طرح طرح کی چمک دمک کا مظاہرہ کرتا ہے ‘ لیکن اس کے بعد آنے والا کوئی زیادہ طاقتور نابغہ اپنے اسی پیش رو کی ترکیبوں اور جدتوں اور ہنر مندیوں کو کچھ ایسی تخلیقی قوت ‘ اور کچھ ایسے اضافات جدیدہ کے ساتھ استعمال کرتا ہے کہ اس کے پیش رو کی حیثیت رہنما اور نمونہ کی بجائے دیباچے کی سی ہوجاتی ہے ۔ اگر معاملہ اتنا انتہائی درجہ کا نہ بھی ہوتو بھی بہت کچھ فرق تو پڑہی جاتا ہے ۔ ناسخ ؔ نے غالبؔ کو متاثر کیا ‘ لیکن غالبؔ ان سے آگے بڑھ گئے ‘ اس قدر آگے کہ بہت سے لوگ ناسخ ؔ کو شاعر ہی نہیں مانتے اور غالب ؔ کو اکثر لوگ اردو کا سب سے بڑا شاعر مانتے ہیں ۔

لہذا نئی شاعر کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے ہرشعر کو رشک عرفی ؔ و فخر طالب ؔ بتایا جائے اس کی ہر نظم کو اقبال ؔ کے لیے مایہ ٔ آخرت قرار دیا جائے ۔

نئے شاعر کے بارے میں یہ سوال زیادہ معنی خیز ہے کہ اس کا کلام پڑھ کر کسی تخلیقی ابتہاج ‘ کسی تازہ ہیجان ‘ کسی با ہمت لفظ شناس سے ملاقات ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ نہیں ‘ راہی ؔفدائی کے کلام میں معاصر دنیا کا احساس اور خارجی حقیقت سے متحارب ہونے کا تاثر بھی ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے ۔ جیسا کہ میں نے بہت پہلے لکھا تھا ‘ وہ خارجی ماحول کی نکتہ چیں اور ایک با خبر مبصر کے روپ میں ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ یہ چیز ان کے کلام کو ظاہر بینوں کے اس الزام سے محفوظ رکھتی رہی ہے کہ وہ کچھ غیر ذمہ دار اور غیر سنجیدہ ‘ کھلنڈر ے ‘  نا تجربہ کار شخص ہیں ‘ لیکن مجھے ( اور میں راہی ؔ فدائی کے کلام کے اولین قاریوں میں سے ہوں ۔)جو چیز شروع ہی سے متوجہ کرتی رہی ہے ‘ وہ ان کے یہاں ایک طرح کی آزادئی اظہار ہے ‘ جو ’’ روایتی‘‘ ،’’ شائستہ‘‘،’’چلبلاپن‘‘ اور ’’ کھردراپن‘‘ دونوں ہی امکانات غزل کی دنیا سے باہر نہیں ہے ۔ راہیؔ فدائی کی غزل میں عشقیہ مضامین بہت کم ہیں ۔ ممکن ہے یہ ان کی ’’ صوفیانہ‘‘ اور ’’ ملایانہ‘‘ طبیعت کے عمل و دخل کا نتیجہ ہو یا ممکن ہے وہ غزل کو ’’ بنت ِ عم‘‘ راتوں کو چھپ چھپ کر رونے اور محبوب کو خط لکھنے والی ‘ سہیلیوں کے درمیان شرما شرما کر دل کا دکھڑا بیان کرنے والی ان لڑکیوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ‘ جن کا کچا پکا حال اشعار میں بیان کر کے پروین ؔشاکر مرحومہ نے بڑی شہرت کمائی ۔ لیکن سچ پوچھیے تو یہ بڑی ہمت کی بات ہے کہ غزل کاشاعر خود کو غزل ہی کے مقبول ترین مضامین سے دور رکھے ۔ راہیؔ فدائی کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ بسا اوقات ان کے شعر کا مخاطب غیر واضح رہتا ہے ۔ یا یوں کہیں کہ یہ صاف نہیں ہوتا کہ شعر کس کے بارے میں ہے ؟ مندرجہ ٔذیل اشعار میں ایک بے نام سی محزونی ہے ‘ جسے عشقیہ محزونی سے تعبیر کرسکتے ہیں اور جو کبھی کبھی اس محزونی سے آگے بھی جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے : ؎

ہزار طرح سوالوں میں اس کو رجھائو 

مگر جواب وہ بے قیل و قال دیتا ہے 

کبھی بطور سزا کاٹتا ہے دستِ طلب 

کبھی کبھی وہ مگر بے سوال دیتا ہے 

تیرے دامن ِ دل پر صد ہزار انجم ہیں 

شام کہکشانی کو شمع داں کی حاجت کیا 

سبزہ زاروں کی شرافت سے نہ کھیلو قطعاً

تم ہوا ہو تو خلائوں سے لپٹ کر دیکھو 

اسے احتیاج قمر نہیں !

دل منتظر ہے چراغ کا 

ویسے اس شعر کے یہ تیور بھی قابل دادہیں کہ بحر کامل سالم کو مربع استعمال کیا ہے اور اس میں بھی ایک رکن میں تسکین اوسط لگا کر متفاعلن کو مستفعلن بنادیا ہے ۔بحر کامل میں ایسا اوروں نے بھی کیا ہے ‘ لیکن بہت کم ۔ فارسی والے تو بحر کامل کو شاید ہی برتتے تھے اور اسے مخصوص بہ تازی قرار دیتے تھے ‘ لیکن ہمارے یہاں بیدل ؔ نے فارسی میں اور اردو میں اقبال ؔ نے اس بحر میں رواں دواں اشعار کے دریا بہا دیے ۔ راہیؔ فدائی کے لہجے کا ایک اور رنگ دیکھیے: ؎

آنکھ سے درد ٹپک جائے لہو بن کے نہ کیوں 

موجۂ طبع میں طغیان اشد بھی رکھنا 

تجھ میں ہے بحر بیکراں کا وجود

تجھ سے کس نے کہا حباب خرید

روح روشن ہن ہوئی اور نہ دل ہی بہلا 

وقت برباد کیا جسم کی آرائش میں 

راہی ؔ فدائی کے اولین پسند کرنے والوں میں بانی ؔ کا نام بھی ہے اور بہت نمایاں ہے ۔ راھیؔ اور ان کے دو ساتھیوں ‘ (عقیل جامدؔاور ساغرؔ) نے جب اپنے کلام کا ایک ایک مختصر انتخاب ایک ہی مجلد میں ’’ انتسللہ‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔ (اس بات کو آج بیس برس سے زائد ہوتے ہیں )تو بانی ؔ مرحوم کا ذکر اپنے قدردانوں میں خاص طور پر کیا اور کیوں نہ ہو‘ بانیؔ کی بلند کوش ‘ تجزیہ پسند اور تازہ جو شخصیت ہی ایسے کلام کے ساتھ انصاف کرسکتی تھی ۔ راہی ؔ کی شاعری ’’اساتذہ‘‘ اور ’’ شعریت پسند‘‘ لوگوں کے بس کی کبھی نہیں رہی اور اچھی بات ہے‘ کیونکہ ان حلقوں میں پذیرائی کامطلب یہ ہے کہ یہ شاعری اب ’’ محفوظ‘‘ اور ’’ باعزت‘‘ درجہ اختیار کرچکی ہے ۔ مندرجۂ ذیل طرح کے اشعار پڑھ کر شاعر اور اس سے بھی بڑھ کر غزل

 کی صنف کو خراجِ عقیدت پیش کرنا  ناگزیر ہوجاتا ہے کہ قافیہ کی تلاش شاعر کو کس کس طرح کے کوچوں سے واقف کراتی ہے ؎

تمہیں خرد پہ ناز ہے بجا مگر 

شجیع کا کبد کہاں سے لائو گے

باندھ لے اپنی گرہ میں یہ نصیحت راہی ؔ

ضبط سے کام لے ‘ ناخن نہ بڑھا خارش میں 

مرحوم خواہش کے مکلف ڈھونڈئیے 

زاغ و زغن ‘ مورومگس ہل من مزید 

پوری طرح غرق حسد ہوجائیے

کب تک چلے کا مسح و مس ہل من مزید 

راہیؔ فدائی کا طنزیہ رنگ اپنے انداز کا انوکھا ہے کہ اس میں بہت سارا علم ‘ بہت ساری طباعی میں حل ہوگیا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے عام طور پر طنزنگار کا رجحان سا بن گیا تھا کہ اپنے علم کو چھپائے ‘ بلکہ اگر واقعی کم علم ہو تو اور بھی اچھا ہے۔ طنز اور ہجو کی عزت اور قیمت سوداؔ نے قائم کی تھی ۔ سیاسی اور سماجی طنز کی قد اور بلندی ٔ معیار کی ضمانت کے لیے اکبرؔ الہ آبادی کا نام ہمیشہ کافی رہے گا۔ لیکن اکبرؔ کے بعد خدا معلوم کس وجہ سے طنزیہ شاعر کے لیے ضروری ٹہرا کہ وہ خود کو سادہ لوح ثابت کرے ۔ (نثر میں البتہ رشید احمد صدیقی اور اب مشتاق احمد یوسفی نے اس مہمل خیال کی مکمل تردید اپنے عمل کے ذریعہ کی ہے ۔) عام طنزیہ شاعری کے خلاف راہی ؔ فدائی کے انداز میں ایک رکھ رکھائو ہے ‘ جو در حقیقت علم کی فخامت سے پیدا ہوا ہے ۔ یہ خالی خولی عربیت نہیں ہے اس میں ایک بے تکلفی ‘ ایک طنطنہ ہے : ؎

تقویٔ جہل کو کچھ ہوس چاہیے 

باغ جنت میں بھی خار و خس چاہیے 

جلسہ ٔ اعتراف ادب پروری 

ایک دو سال کیا ہر برس چاہیے 

اسی کا نام ہے آج اسپ تازی 

بشکل خر جو کل لاغر ملا تھا 

شروح و حواشی سے پر ‘ متن دل ہے 

بظاہر ہیں سادہ ورق کے منادی 

راہی ؔ فدائی کا نام اکثر عقیل جامدؔ اور ساغرؔ کے ساتھ سنائی دیتا ہے ۔ جیسا کہ ہم اوپر دیکھ چکے ہیں ‘ان تین ہم خیال اور ایک حد تک ہم رنگ دوستوں نے ایک مشترکے مجموعہ ’’ انتسللہ‘‘ کے دل چسپ نام سے چھپوایا بھی تھا ۔ ان میں پہلا شخص جن کے کلام سے میں متعارف ہوا‘ عقیل جامدؔ تھے ۔ ان کے چند ہی دنو ںبعد میں راہیؔ اور ساغرؔ ( جن کے نام نے موجودہ مختصر صورت اختیار کرنے سے پہلے ساغرؔ کڈپوی‘ پھر ساغرؔ جیدی کا روپ بھرا) کے نام و کلام سے میں آشنا ہوا۔ اس کو اب پچیس برس سے زیادہ ہونے کو آئے ۔ اس مدت میں کچھ لوگ نئی راہیں اختیار کرلیتے ہیں ‘ زیادہ تر لوگ تھک کر بیٹھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ انھیں راہوں پر مستقل مزاجی سے گامزن رہتے ہیں جو شروع میں اپنے لیے اختیار کرلیتے ہیں ۔ راہی ؔ کو میں اسی زمرے میں رکھتاہوں۔ عقیل جامدؔ اب شعر گوئی تقریباً ختم کرچکے ہیں ۔ ساغرؔ کی اکاد کا نظم کہیں نظر آجاتی ہے ۔ لیکن راہی ؔ فدائی کے یہاں آمد کا وہی عالم ہے جو آغاز جواینی میں تھا ۔ اتنی دیر تک وہی دم خم باقی رہنا کوئی معمولی بات نہیں ۔ خاص کر جب ہمارے زمانہ میں عام مشاہدہ یہ ہے کہ ہمارے ادیبوں (خاص کر شعراء)میں استقلال و مقاومت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی صلاحیت بہت جلد کم ہونے لگتی ہے ۔ یا پھر وہ اپنی باتیں دہرانے لگتے ہیں ۔

راہی ؔ فدائی نے جدید غزل کے ایک خاص رنگ کو اپنایا اور جس طرح وہ اس رنگ کو بے تکان برتتے چلے گئے ہیں اس کو دیکھ کر کہاجاسکتا ہے کہ اس باب میں اب انھیں نفسِ مطمئنہ حاصل ہے ۔ جو رنگ انھوں نے اپنا یا وہ ہر کس و ناکس کے بس کا نہیں اور اس میں اخلاقی مضامین کی توفیر نے غزل گوئی کی منزلیں اور مشکل کردیں ۔ ایسا نہیں کہ غزل کو اخلاقی مضامین سے کوئی بیر نہیں ۔ لیکن غزل چوں کہ بیش از بیش بالواسطہ اور ذرا پیچیدہ انداز کی شاعری ہے اس لیے غیر عشقیہ مضامین کو اس میں برت لینا ہر شاعر کے بس کا نہیں ۔ 


Comments

Popular posts from this blog

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئےاز محمد یوسف عبدالواحد عمری

ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گرگئی از حـضرت مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں از رئوف خیر