Posts

کلامِ اقبال میں قرآنی تلمیحات از ڈاکٹر ایس۔محمد یاسر،

 علامہ اقبالؔ کا شمار بیسویں صدی کے ایسے شعراء میں ہوتا ہے ، جنہوں نے کلامِ الٰہی ’قرآنِ مجید ‘ سے اپنے والہانہ لگاؤ اور شغف کی وجہ سے اپنے کلام میں قرآنی الفاظ ‘ اشارات‘ تلمیحات اور قرآنی فکر کو پیش کیا ۔ بلاشبہ علامہ اقبالؔ اردو کے صفِ اول کے ممتاز اور نمائندہ شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں‘ جو اس لحاظ سے انفرادیت کے حامل ہیں کہ ان کے ہاں ’کتابِ الٰہی ‘ سے غیر معمولی شغف پایا جاتا ہے۔  ’’کلامِ الٰہی ‘‘ سے اپنے فکر وفن کو مزین کرنے کے سلسلہ میں‘ نہ صرف اردو ‘ بلکہ بشمول عربی ‘ دنیا کی کسی بھی زبان میں کوئی شاعر علامہ اقبال ؔ کی ہمسری کا مدعی نہیں ہے ۔ خاص طور پر قرآنی لفظیات ‘ قرآنی اشارات‘ قرآنی تلمیحات‘ قرآنی تفہیمات کے بارے میں تو جو مقام علامہ اقبالؔ کوحاصل ہے ، وہ صرف انہیں کے حصے میں آیا ہے ۔ علامہ اقبالؔ اپنی افتادِ طبع ، مناسبتِ مزاج، فکری رجحان اور قلبی میلان کے باعث کلامِ الٰہی سے حیرت انگیز طور پر غیرمعمولی شغف وانہماک رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے افکار اور خیالات کو کلامِ ربّانی سے اخذ کیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کے ہاں شعوری یا غیر شعوری طور پر قرآنِ مجید کے ا...

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئےاز محمد یوسف عبدالواحد عمری

 توبہ واستغفار در حقیقت ان دونوں لفظوں میں معنی ومطلب کے اعتبار سے لطیف سا فرق پایاجاتاہے، استغفار میں قلب وجوارح کے ذریعہ گناہوں،خطاں اور لغزشوں سے معافی اور بخشش کا مطالبہ کیا جاتاہے اور توبہ میں اسی مطالبہ کا زبانی اظہار ہوتاہے۔ توبہ واستغار، اسلام اور دیگر مذاہب کی نظر میں : بحیثیتِ بشرانسان سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں گویا انسان کا تعلق گناہوں سے جڑا ہواہے چنانچہ ہندوازم ، بدھ مت اور جین مت کا عقیدہ یہ کہ انسان جب گناہ کرتاہے یا اس سے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں تو اس کے  لئے ایسی کوئی راہ نہیں جس کو اپنا کر وہ اپنے گناہوں سے پاک وصاف ہو، بلکہ وہ ان گناہوں کی پاداش میں دوسرے جنم میں کتا ، بلی ، خنزیر یا کوئی حقیرو نجس جانور کی شکل میں اٹھایاجائے گا۔  گویا کہ یہ مذاہب ایک گناہگار کو مایوسی کے دلدل میں پھینک دیتے ہیں جس کے سبب وہ نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف آنا تو درکنار اس کے متعلق سوچنے کوبھی بیکار سمجھتاہے۔ اور عیسائی مذہب کا عقیدہ یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر چڑھ کر قیامت کی صبح تک جنم لینے والے اپنے متبعین کے گناہوں کا کفارہ دے دیا، گویا یہ نظریہ اپنے ماننے والو...

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں از رئوف خیر

 (اردو کے صاحب طرز ادیب لاجواب و بے مثل شاعر جناب رئوف خیر ان گنے چنے ادیبوںمیں شمارہوتے ہیں جن کی تحریریں ادب میں واقعی ایک خوشگوار اضافہ مانی جاتی ہیں۔ان کا مذکورہ مضمون اگرچہ بیشتررسائل وجرائد میں چھپ چکا ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر ارتعاش میں ہم پیش کر رہے ہیں ۔اس بات کی بھر پورامید بھی رکھتے ہیں کہ قارئین اس مضمون کو یقینا پسند کریں گے ۔مدیر) ماہ نامہ ’’الحمرا ‘‘لاہور کے سالنامے جنوری 2013ء ؁ تا اپریل 2013ء؁ کے شماروں میں ڈاکٹر جاوید اقبال کی خود نوشت سوانح حیات’’اپنا گریباں چاک‘‘ کے تعلق سے مختلف اربابِ نظر کی آرا ء نظر سے گزریں تو اس خود نوشت کے مطالعے کا اشتیاق جاگا۔میرے کرم فرما پروفیسر غازی علم الدین ،(میرپور،آزاد کشمیر) نے ازراہِ کرم پاکستان سے اپنے مطالعے کا نسخہ (اضافہ شدہ ایڈیشن اپنا گریباں چاک مطبوعہ مارچ 2006ء سنگ میل پبلی کیشنز لاہور) عنایت فرمایا ۔جس کے لیے میں ان کا بے حد ممنون ہوں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا ہائی کورٹ لاہور کے چیف جسٹس کے عہدے سے باسٹھ برس کی عمر میں 1986ء؁ میں ریٹائر منٹ ہوتے ہی اسی روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا ۔ انھوں ...

اردو میں مقبول عام ادب کے ترجمے کی روایت اور موجودہ منظرنامہ از ڈاکٹر فہیم الدین احمد

 ترجمہ ان تمام شعبہ ہائے علم وفن میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں زبان کو ذریعہ اظہار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا میں ایسے کئی فنون ہیں جن میں زبان کا استعمال نہیں ہوتا،جیسے مصوری ، سنگتراشی وغیرہ وغیرہ ۔لیکن وہ علوم جن کا اظہار زبان ہی کے ذریعہ ہوتا ہے ان میں ترجمہ کی اپنی بالکل الگ اہمیت ہے۔ترجمہ اور زبان درحقیقت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ترجمہ اپنے اظہار کے لئے زبان کا سہارا لیتا ہے اور زبان دراصل خیال ، فکر اور تصورات کے ابتدائی اظہار کی ترجمانی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس بنیادی خیال کے مطابق زبان کی ہر مہارت ایک طرح سے ترجمہ کے عمل سے گزرتی ہے۔ اگر مذکورہ بالابیان کو مان لیا جائے تو اس میں مزید توسیع اس طرح کی جاسکتی ہے کہ ترجمہ ایک کثیر جہتی عمل ہے جو لسانی و تہذیبی بھی ہے اور مسلسل و متناقص بھی۔اس مفہوم کے مطابق ترجمہ کا وسیلہ زبان ہے اور اس کا مواد تہذیبی ہے۔ لیکن یہ ساتھ ہی ساتھ متناقص بھی ہے کیوں کہ یہ بیک وقت اصل مواد کو تبدیل بھی کرتا ہے اور اس کو محفوظ بھی کرتا ہے۔یہ قدامت پسند بھی ہے اور جدت پسند بھی۔ حقیقت میں یہ ایک دوطرفہ عمل ہے جو یک سطحی نظر آتا ہے۔ ...

ٹیڑھی زمینوںاور اجنبی لہجے کا شاعر : راہیؔ فدائی از شمس الرحمن فاروقی

 کم شاعر ایسے ہوں گے جن کا دیوان یوں ہی بے ارادہ کھولا جائے تو اس طرح کے شعر نظر پڑیں۔      ؎ سیل ِ آلام و طوفان کرب و بلا خفتہ قوموں کی خاطر جرس چاہیے اس تماشہ گر زندگی کے لیے خرس و خر اور فیل و فرس چاہیے کہیں اور سے ورق پلٹیں تو یہ شعر ملتے ہیں : ؎ متاع و مال ہوس حب آل سامنے ہے  شکارخود کو بچا ‘ دیکھ جال سامنے ہے  مجھے ملال ہے اپنی فلک نشینی پر  یہی عروج کی حد پھر زوال سامنے ہے  وہ باکمال سیاق و سباق پر حاوی گزشتہ اس کی نظر میں مال سامنے ہے  تھوڑا اور آگے بڑھیں تو دیکھتے ہیں : ؎ ہراک ماحول موسم ‘ راس آیا  زمانے کے مناسب ہوگئے ہو  سحر حسبِ ضرورت ہوگئی ہے  کہ خود ہی صبح ِ کاذب ہوگئے ہو  ذرا تو سوچ کہ یہ بھی کوئی سزا تو نہیں  دعائے خیر سہی پھر بھی ساری رات نہ مانگ  پڑھنے والا حیرت میں ہے ۔ زمینیں تیڑھی اور زیادہ تر نئی زبان کے ساتھ بے تکلف لیکن قادر الکلامی کا رویہ ‘ تجربہ سے گریز نہیں اور کلاسیکی اسلوب سے اچھی واقفیت یہ صفات کس طرح ایک شخص میں یک جا ہوجائیں  ؟ غزل کی وہ صفات جو کتابوں میں درج ہیں ...

ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گرگئی از حـضرت مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری

میں کوئی دس سال کا تھا کہ والد بزرگوار کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوگیا ،وہ کھیلنے کودنے کی عمر تھی اس لیے اپنی محرومی اور یتیمی کا زیادہ احساس نہیں ہوا اور اگر یہ اعتراف بھی کروں توحقیقت سے بعید تر نہ ہوگا کہ اس ننھی عمر اور معصومیت کے دور میں والد کی وفات پر آزادی کااحساس جاگا ہوگا کہ اب من مانی کرنے اور کھل کھیلنے کے مواقع حاصل رہیں گے ۔بچپن کا زمانہ بھی عجیب بے فکری کا ہوتا ہے خطرات اور اندیشوں کا وہاں گزر نہیں ،مستقبل کی کوئی فکر نہیں،حسرت ویاس کا کوئی نام ونشان نہیں ،زندگی کے نشیب وفراز کا کوئی اندازہ نہیں ناکامیوں اور نامرادیوں سے دوچار ہونے کا وہم وگمان تک نہیں بس پوری زندگی حسین خوابوں کی وادی میں جھولا جھولتی بسر ہوتی ہے آرزوئیں لوری دیتی ہیں ،امنگیں ترانے سناتی ہیں اور معصومیت ،فکر فردا اور اندیشہ ٔ  خزاں کی گردشوں کے مقابل ڈھال بنی رہتی ہے۔پتہ نہیں خوابوں کی اس جنت میں کتنے دن یا لمحے بیتے کہ حقائق وواقعات کی دنیا نے نہ صرف جگایا بلکہ جھنجوڑکر چوکنا کردیا کہ آنے والے دن بڑے کٹھن اور کٹھور ہوں گے ہر قدم زحمتیں اور ہر نفس پریشانیاں ہوں گی ،کہاں جائیں کیا کریں کیسے کھائیں ...