موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئےاز محمد یوسف عبدالواحد عمری

 توبہ واستغفار در حقیقت ان دونوں لفظوں میں معنی ومطلب کے اعتبار سے لطیف سا فرق پایاجاتاہے، استغفار میں قلب وجوارح کے ذریعہ گناہوں،خطاں اور لغزشوں سے معافی اور بخشش کا مطالبہ کیا جاتاہے اور توبہ میں اسی مطالبہ کا زبانی اظہار ہوتاہے۔

توبہ واستغار، اسلام اور دیگر مذاہب کی نظر میں :

بحیثیتِ بشرانسان سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں گویا انسان کا تعلق گناہوں سے جڑا ہواہے چنانچہ ہندوازم ، بدھ مت اور جین مت کا عقیدہ یہ کہ انسان جب گناہ کرتاہے یا اس سے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں تو اس کے  لئے ایسی کوئی راہ نہیں جس کو اپنا کر وہ اپنے گناہوں سے پاک وصاف ہو، بلکہ وہ ان گناہوں کی پاداش میں دوسرے جنم میں کتا ، بلی ، خنزیر یا کوئی حقیرو نجس جانور کی شکل میں اٹھایاجائے گا۔ 

گویا کہ یہ مذاہب ایک گناہگار کو مایوسی کے دلدل میں پھینک دیتے ہیں جس کے سبب وہ نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف آنا تو درکنار اس کے متعلق سوچنے کوبھی بیکار سمجھتاہے۔

اور عیسائی مذہب کا عقیدہ یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر چڑھ کر قیامت کی صبح تک جنم لینے والے اپنے متبعین کے گناہوں کا کفارہ دے دیا، گویا یہ نظریہ اپنے ماننے والوں کو جری وبے باک بنا دیتا ہے کہ وہ بلا کسی جھجک گناہوں میں ملوث ہوں.

ان دونوں نظریوں کے برعکس اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ صالح عقیدہ پیش کرتاہے کہ قلبِ انسانی ایک سادہ تختی ہے جس پر ہر قسم کی تحریر لکھی بھی جاسکتی ہے اور یہ تحریر مٹائی بھی جاسکتی ہے.

 یہی وجہ ہیکہ دینِ اسلام توبہ واستغفار کے سلسلہ میں ایک جامع تصور پیش کرتاہے جس سے دوسرے مذاہب کورے ہیں وہ یہ اعلان کرتاہے کہ قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحم اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفور الرحیم ( سور الزمر:53)

ترجمہ : اے نبی ﷺ آپ فرمادیجئے! اے میرے وہ بندوں جنھوں نے اپنے آپ پر (گناہوں کا ارتکاب کرکے) زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کومعاف کردیتاہے، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا اور بے حد مہربان ہے۔

تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جنھوں نے شرک ، قتل ، اور نبی کریم ﷺ کی ایذا رسانی جیسے گناہوں کا ارتکاب کیا تھا اور اسلام لانا چاہتے تھے لیکن ڈرتے تھے کہ ان کے گناہ معاف نہیں کئے جائے گے( تیسیر الرحمن لبیان القرآن :( 305) امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ قرآنِ کریم کی سب سے زیادہ امید بھری آیت ہے، اس میں اللہ نے بندوں کو گناہوں کیارتکاب میں حد سے تجاوز ہونے کی صورت میں بھی اپنی رحمت سے نا امید ہونے سے منع فرمایا ہے۔

حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ آیتِ کریمہ کافر ومومن تمام گناہگاروں کو توبہ کی دعوت دیتی ہے اور خبر دیتی ہے اللہ تعالی تائبین کے تمام گناہ معاف کرتاہے چاہے وہ سمندر کے جھاگ کہ برابر کیوں نہ ہوں ۔

 حصولِ مغفرت کے ذرائع:

ترمذی کی حدیث ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالی بندے سے کہتاہے ۔اے ابنِ آدم ! تو نے مجھے پکارا اور مجھ سے امید باندھی، میں نے تیرے حق میں تجھ سے سرزد سارے گناہ معاف کردئے اور میں انکی پرواہ بھی نہیں کروںگا. اے ابن ِ آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کی فضا تک بھی پہنچ جائے اور پھر تو ان کی مغفرت مانگی تو میں تیرے حق میں ان کو معاف کردوں گا، اور ان کی پرواہ تک نہیں کرونگا، اے ابنِ آدم ! اگر توزمین کی وسعت کے برابر بھی گناہ لے کر آ ئے اور (توبہ کے ذریعہ ) مجھ سے ملیشرط یہ کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتو میں بھی تیرے پاس زمین کی وسعتوں کے برابر مغفرت لیکر آوں گا۔

مذکورہ حدیث کی روشنی میں مغفرتِ الہی کے دو ذریعہ معلوم ہوتے ہیں:

ایک یہ کہ دورانِ استغفار امید ورجاکی کیفیت ہو کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہادعو اللہ وانتم موقنون بالاجاب یعنی تم اللہ تعالی سے اس انداز سے دعاکرو کہ اسکی قبولیت کا تمھیں یقین ہو۔

دوسرا ذریعہ یہ کہ عقیدہ توحید میں پختگی ہو۔توبہ استغفار کے لئے عقیدہ توحید میں پختگی بے حد ضروری ہے اس کے بغیر مغفرت کی امید سراب کی مانند ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ان اللہ لایغفر ن یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآ (سور النسا:116

یعنی: بے شک اللہ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو معاف نہیں کرتا، اور اس کے علاوہ گناہ کو جو وہ چاہتاہے معاف کردیتاہے۔

شرک اتنا قبیح جرم ہے کہ رب العالمین نے سور الانعام میں اٹھارہ جلیل القدر انبیا کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا  ولو اشرکوا لحبط عنھم ماکانوا یعملون(سور الانعام:88)(ترجمہ: اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کے اعمال ضائع ہوجاتے۔ اور سور الزمر آیت 65 میں بیان کیا گیا۔ اے محمدﷺ آپ کو اور آپ سے قبل تمام انبیا کرام کو بذریعہ وحی بتلادیا گیا کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجا ئیں گے۔

الغرض بندے کی عقیدہ توحید میں پختگی اس کے حق میں جنت کو واجب کرتی ہے اور جہنم کو حرام کرتی ہے۔

تیسرا ذریعہ یہ کہ دورانِ استغفاربندہ اصرار کی کیفیت کو لازم پکڑے کیونکہ یہ کیفیت بندے کے گناہ کو گھٹادیتی اور رب ذوالجلال کی شانِ مغفرت کو بڑھادیتی ہے۔

   موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

گناہوں کے نقصانات :۔

(1) گناہ انسان کو معرفتِ حق سے کورا بنادیتاہے جیسا کہ فرما یا گیا کلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون(سورۃ المطففین:14)

مسندِ احمد کی حدیث ہے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مومن بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتاہے اگر وہ توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتاہے اور اگر وہ مزید گناہ کرتاجائے تو سیاہ نکتہ بڑھا دیاجاتاہے، اگر وہ توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگروہ مزید گناہ کرتاجائے تو سیاہ نکتہ بڑھتا چلاجاتاہے۔ یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا ہے کہ ہر گز نہیں ان کے اعمال کے باعث اللہ نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔

(2) حافظہ کی کمزوری اور علم سے محرومی: جیسا کہ امام وکیع رحم اللہ علیہ نے امام شافعی سے فرمایا تھا 

لأن العلم نور من الھی  ونور اللہ لا یعطی لعاصی

یعنی علم اللہ کا نور ہے اور اللہ کا نور گنہگاروں کو نہیں دیا جاتا.

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الدا ء والدواء  اور الفوائد میں گناہوں کے کے نقصانات بتلائے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں : اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت سے محرومی ، برا انجام اور آخرت کا عذاب ، برکتوں کا اختتام اور نعمتوں کا زوال ، بحر و بر میں فساد کا برپا ہونا ، جیتے جی مردہ زندگی گزارنا ، دعاں کا قبول نہ ہونا اور صراطِ مستقیم سے دوری وغیرہ۔

توبہ میں عجلت ضروری ہے:

انسان سے جب گناہ سرزد ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالی اس کو توبہ کے لئے دو قسم کی مہلت عطا کرتے ہیں ۔

1۔ ایک مہلت وہ ہے جو گناہ کرنے کے بعد سے کراما کاتبین کے لکھنے سے پہلے ملتی ہے۔ جیسا کہ صحیح الجامع کی حدیث ابو امامہ الباھلی رضی اللہ عنہ راوی ٔحدیث ہیں، فرماتے ہیں کہ بائیں طرف والا فرشتہ خطا کرنے والے مسلمان بندے سے چھ گھنٹے تک قلم اٹھائے رکھتاہے (گناہ نہیں لکھتا) پھر اگروہ (گنہگار بندہ گناہ پر) نادم اور اللہ سے معافی مانگ لے تو گناہ نہیں لکھتا ورنہ ایک برائی لکھی جاتی ہے۔ 

ایک اورمسلم کی حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا  اللہ تعالی رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتاہے تاکہ دن کو برائی کرنے والا (رات کو) توبہ کرلے اور اللہ تعالی دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتاہے تاکہ رات کے گناہ کا مرتکب (دن کو) توبہ کرلے اور یہ سلسلہ اس وقت تک رہے گا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو یعنی قیامت تک۔ 

2۔ دوسری مہلت یہ کہ گناہ لکھے جانے کے بعد سے موت سے پہلے تک ہے جیسا کہ فرمایا گیا ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو برے کا م کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب موت سامنے ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ اب میں نے توبہ کرلی اللہ کے نزدیک ایسی توبہ کی کوئی حقیقت نہیں ، جب فرعون نے اپنی آنکھوں سے موت کو دیکھ لیا تو کہنے لگا کہ میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور جس پر بنی اسرئیل ایمان لائے تو اللہ تعالی نے جوابا کہا اب ایمان کا اعلان کرتے ہو لیکن اب تمہاری توبہ کا کوئی فائدہ نہیں معلوم ہوا کہ اگر توبہ کرنے والا اپنی زندگی کی امید رکھتا ہو تو اس کی توبہ قبول ہوگی۔

شرائطِ توبہ:

توبہ کا کلمہ بڑا ہی عظیم اور اسکے مدلولات بڑے ہی گہرے ہیں لہذا اس کے کچھ شرائط ہیں، اور یہ شرائط قرآن وحدیث سے ماخوذ ہیں:

1۔ توبہ کرنے میں جلدی کریں جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ولیست التوب للذین یعملون السیات حتی ذا حضراحدھم الموت (سور النسا 18 )

ترجمہ: ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے توکہہ دے کہ میں نے اب توبہ کرلی۔

 اور آپ ﷺ نے فرمایا ن اللہ یقبل توب العبد مالم یغر(رواہ الترمذی) 

یعنی : اللہ رب العالمین سکرات کا عالم آنے سے پہلے پہلے تک بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے۔

2۔ گناہ پر ندامت کے ساتھ توبہ کی جائے۔

3۔ توبہ کے بعد گناہ کو فورا اور کلی ترک کیا جائے اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کیا جائے۔

4۔ توبہ کے بعد گناہ کو صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے ترک کیا جائے اس کا کوئی اور سبب نہ ہو۔

5۔ انسان ہر ہمیشہ اپنے گناہوں کی توبہ کرتا رہے یہ نہ سمجھے کہ اتنی توبہ ہوگئی کہ گناہ مٹادئے گئے۔

6۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوئے بغیر توبہ کریں.  لا تقنطوا من رحم اللہ ن اللہ یغفر الذنوب جمیعا  (سور الزمر:53 )

  الغرض انسان توبہ واستغفار کو اپنی زندگی کا ایک لازمی جز بنالے تب جاکر انسان کی دنیوی زندگی اور اخروی زندگی بھی کامیاب ہوگی۔


Comments

Popular posts from this blog

ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گرگئی از حـضرت مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں از رئوف خیر