ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گرگئی از حـضرت مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری

میں کوئی دس سال کا تھا کہ والد بزرگوار کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوگیا ،وہ کھیلنے کودنے کی عمر تھی اس لیے اپنی محرومی اور یتیمی کا زیادہ احساس نہیں ہوا اور اگر یہ اعتراف بھی کروں توحقیقت سے بعید تر نہ ہوگا کہ اس ننھی عمر اور معصومیت کے دور میں والد کی وفات پر آزادی کااحساس جاگا ہوگا کہ اب من مانی کرنے اور کھل کھیلنے کے مواقع حاصل رہیں گے ۔بچپن کا زمانہ بھی عجیب بے فکری کا ہوتا ہے خطرات اور اندیشوں کا وہاں گزر نہیں ،مستقبل کی کوئی فکر نہیں،حسرت ویاس کا کوئی نام ونشان نہیں ،زندگی کے نشیب وفراز کا کوئی اندازہ نہیں ناکامیوں اور نامرادیوں سے دوچار ہونے کا وہم وگمان تک نہیں بس پوری زندگی حسین خوابوں کی وادی میں جھولا جھولتی بسر ہوتی ہے آرزوئیں لوری دیتی ہیں ،امنگیں ترانے سناتی ہیں اور معصومیت ،فکر فردا اور اندیشہ ٔ  خزاں کی گردشوں کے مقابل ڈھال بنی رہتی ہے۔پتہ نہیں خوابوں کی اس جنت میں کتنے دن یا لمحے بیتے کہ حقائق وواقعات کی دنیا نے نہ صرف جگایا بلکہ جھنجوڑکر چوکنا کردیا کہ آنے والے دن بڑے کٹھن اور کٹھور ہوں گے ہر قدم زحمتیں اور ہر نفس پریشانیاں ہوں گی ،کہاں جائیں کیا کریں کیسے کھائیں اور کس کے سہارے جیئیں اور آگے بڑھیں ،ایسے بے شمار سوالات منھ کھولے ہمارے سامنے کھڑے تھے ،ہم پانچ بھائی بہن اتنے چھوٹے اور ناتجربہ کار تھے کہ زندگی کے ان مشکل حالات کے جوابات کیا دے پاتے اور ہمارے مزید چار بھائی اور چار بہنیں اتنے فاصلے پر تھے کہ وہاں سے ہماری دست گیری اور سرپرستی تقریباً ناممکن تھی ،ان نامساعد حالات میں ہمارے یہ چودھویں بھائی چودھویں کے چاند کی طرح ہماری زندگی کی تاریک راتوں میں روشنی کی مشعل لیے داخل ہوئے،تاریکیوں کا مقابلہ کرنا سیکھایا ،زندگی گزارنے کے گر سکھائے ،ہماری ہمت بندھائی اور ایسا حوصلہ بخشا کہ راہ حیات کے سارے نشیب وفراز ہمارے عزم سفر کی زد میں گرد راہ بن کر رہ گئے اور بحمدللہ ہم سب بھائی زندگی کے اس باعزت مقام تک پہنچ کر ہی دم لیے جہاں سارے محترم بھائی ہمیں دیکھنا چاہتے تھے ۔

برادر محترم کی شخصیت بلاشبہ جامع کمالات تھی ،جس میدان میں بھی آپ نے قدم رکھے وہاں بڑے روشن قابل رشک اور پائدار نقوش چھوڑے ۔طبیب ہوئے تو نبض شناسی اور دواسازی میں کمال حاصل کیا ۔معلمی کے منصب پر فائز ہوئے تو آپ کا ناخن فکر مشکل سے مشکل کتاب کے پیچیدہ مسائل میں گرہ کشا ثابت ہوا،منطق ،فلسفہ ،علم النفس اور فلسفۂ تاریخ کی بیشتر کتابیں آپ کے زیر درس رہیں اور ان فنون پر آپ کی دسترس ایسی تھی کہ طالب علم کے لیے یہ خشک مضامین بھی بوجھل اور ناقابل فہم نہیں رہے ۔کتب احادیث نبوی کی تدریس شروع کی تو اس کی تطبیق کا عمل اپنی ذات سے شروع کیا ۔صورت شکل وضع قطع ،رہن ،سہن ،لباس پوشاک ،اخلاق کردار سب میں سنت نبوی کا اہتمام والتزام نمایاں ،سنن ونوافل ،اذکار ،ادعیہ ،نمازباجماعت اور مسجد کی محبت ایسی کہ مسجد میں سب سے پہلے داخل ہونے اور سب سے اخیر میں نکلنے والوں کی فہرست میں آپ کا نام نامی سب سے اوپر ۔طلبہ کی تربیت کی ذمہ داری قبول فرمائی تو ایسا حکیمانہ رویہ اختیار کیا کہ بڑے اچھے نتائج پیدا ہوئے اور اصلاح وخیر کے کئی پہلو نکل آئے ،اللہ نے آپ کو ذہانت وحافظہ ایسا دیا تھا کہ مسجد میں سلام پھیرنے کے بعد ایک ہی طائرانہ نظر سے پتہ لگالیتے کہ کون کون طالب علم غیر حاضر ہیں۔

عمرآباد میں آپ کی حیثیت قاضی شہر اور خطیب وقت کی تھی ،آپ کے دور بین نگاہوں میں وقت کی پکار معاشرے کے مسائل ،ماحول کی ضرورتیں ،نام نہاد تہذیب وتمدن کی کثافتیں ،اسلام اور مسلمانوں کو مستقبل میں پیش آنے والے خطرات وغیرہ بہت نمایاں اور واضح رہتے تھے چنانچہ آپ کے خطبات جمعہ اور عیدین میں معاشرے کے ایسے ہی سلگتے ہوئے زندہ مسائل موضوع بنتے تھے مختلف گھروں میں عورتوں اور بچوں کو اکٹھا کرکے ان کی تربیت وتذکیر اور ان کے مسائل پر وعظ ونصیحت کی آپ کو بڑی خواہش تھی اس کی کوشش بھی کی اور اس کی ترغیب بھی دی غرض ایسی خدمتوں اور خوبیوں کی فہرست بڑی طویل ہے ۔اور میں اس موضوع کو آپ کے دیگر تلامذہ ،معتقدین اور مستفیدین کے لیے چھوڑکر درون خانہ کی کچھ باتوں اور یادوں کو گھر کا آدمی ہونے کے ناطے نذر قارئین کرنا چاہتاہوں کیونکہ صاحب البیت ادری بمافیہ ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے خیرکم خیرکم لاھلہ  تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے لیے بہترین ہو ،باہر کی دنیا میں شہرت اور نام آوری ،ذراسی ریا کاری کے بعد بہت آسان ہے لیکن گھروالوں سے خراج عقیدت وتحسین حاصل کرنے کے لیے بڑی پائیدار خصوصیات کی ضرورت ہے ،باہر کی دنیا میں گفتار کے کمال سے عروج ممکن ہے لیکن گھر کی دنیا میںا علی کردار ہی کے ذریعہ آدمی کی شخصیت نکھرتی بنتی ہے اور وہ معتبر اور محترم شمار ہوتا ہے اور جب تک آدمی کی فطرت ہی میں یہ خوبی نہ ہو وہ کبھی اس مقام اور مرتبے کو حاصل نہیں کرسکتا ۔

بہت پرانی باتیں تو مجھے یاد نہیں لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد سے جو باتیں میرے حافظے نے محفوظ رکھی ہیں وہ یہ ہیں کہ مدینۃ العلم عمرآباد کی تین گلیوں میں پھیلی پہلی گلی میں ہمارا گھر ہے اور تیسری گلی میں بھائی صاحب کا ،والد صاحب سے مدرسے میں روزانہ آپ کی ملاقات رہتی ہی ہوگی لیکن پھر بھی ہفتے میں دو تین بار ہمارے گھر ضرور تشریف لاتے ہر چھوٹے بڑے سے بے تکلف ہوکر باتیں کرتے طبیعت میں جو بشاشت اورظرافت تھی ،گفتگو کے دوران اس کا مظاہرہ بھی بھر پور ہوتا اور ہم سب بہت مسرور ومحظوظ ہوتے ،عمرآباد میں ہم دونوں گھروں کے افراد دیگر باشندگان کے لیے کچھ اجنبی جیسے تھے ،عام لوگ ذرا کھنچے کھنچے سے رہتے تھے اس لیے بھی ہمارے دونوںگھروں کے افراد کا میل ملاپ اور ایک دوسرے گھر آمد ورفت جشن ومسرت کی بہار دے جاتی تھی ،ماہ بہ ماہ کبھی ہمارے گھر اور کبھی آپ کے گھر دعوت طعام ہوتی دونوں گھروں کے افراد یکجا ہوتے ،قربتیں بڑھتیں محبتوں میں اضافہ ہوتا اور مسرت وشادمانی کے اثرات دوسرے اجتماع تک باقی رہتے ،کیا باغ وبہار دن تھے وہ بھی کہ آج تک ان کی یادیں دل ودماغ کو سرشار رکھی ہوی ہیں ۔زندگی کے طوفان میں یادوں کے یہی جزیرے تو پناہ دیتے ہیں    ؎

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا 

ان دعوتوں میں کھانا کیسا پر تکلف ہوتا اور دستر خوان کتنا شاندار ہوتا یہ تو یاد نہیں مگر اس اجتماع کا اخلاص ووفا اور لذت ولطف بھولنے بھلانے کی بات نہیں ،فیالیت ایام الصبا واجعا۔

دسمبر ۱۹۵۱ء میں والد صاحب کا انتقال ہوا تو بھائی صاحب کی تشریف آوری ہمارے گھر بلا ناغہ ہوگئی ،ہماری دلجوئی اور دلداری کے لیے آپ نے وہ سب کچھ کیا جو آپ کے امکان میں تھا کثیر العیال ہونے کے باوجود اپنی قلیل تنخواہ کا ایک حصہ ہمارے لیے وقف فرمادیا اور ہمارے دوسرے بھائی برسر روز گار ہونے تک یہ سلسلہ جاری رکھا ۔اللہ تعالیٰ آپ کے حسنات میں اضافہ اور درجات میں بلندی عطا فرمائے کہ آپ نے  وآتی المال علی حبہ ذوی القربی والیتامی والمساکین کے حکم کی تعمیل فرمادی ۔

عید بقر عید کے دن آتا تو فجر پڑھ کر سیدھے ہمارے ہی گھر تشریف لاتے ،ہمیں نامرادیوں اور محرومیوں میں اداس دیکھتے تو لطائف وظرائف سے ہنساتے ہمارے سستے کپڑے اور عید کے بے وقعت جوڑوں کو ایسے الفاظ اور اسلوب میں سراہتے تعریف کرتے کہ ہم اعتماد وافتخار کی کیفیت سے سربلند ہوجاتے ،ہماری اداسیوں کو خوشیوں میں بدلنے کے بعد ہی آپ واپس ہوتے اور عیدی کے انعام سے بھی نواز کر جاتے ، ہم جب تک کافی بڑے نہیں ہوئے آپ کا اس معمول اور تعامل میں کوئی فرق نہیں آیا ۔

ٍٍٍ آپ ہمارے سرپرست اور مربی تو تھے ہی ،معالج ومسیحا بھی تھے ،ہر مرض کا علاج آپ ہی کرتے جب تک آپ کے زیر سایہ رہے کسی اور طبیب کی شکل نہیں دیکھی باہر کی دنیا میں گیے تو ڈاکٹروں کی گولیاں کھائیں اور ان کے تیر ونشتر سہنے پڑے وہاں یاد آیا کہ اب تک کتنے آرام سے بے دام دوائیاں ہماری صحت وعافیت کا کیسا تحفظ کرتی رہیں ۔

بچپن میں ہوی شرارتیں بھی کچھ کم نہ تھیں والدہ محترمہ تنگ آجاتیں تو بھائی صاحب سے شکایتیں کردیتیں سب سن کر ایسی شفقت سے آپ سمجھاتے اور چشمے کے اور سے کچھ اس انداز سے دیکھتے کہ پوری تنبیہ ہوجاتی اور ایک مدت تک میں شریف بنا رہتا ،اولاد اور طلبہ کی اصلاح وتربیت میں آپ سخت گیر مشہور تھے ضرورت پر چھڑی کے استعمال سے بھی دریغ نہ فرماتے لیکن ہم یتیم بھائیوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ مشفقانہ ہی رہا ،ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات زبانی بھی ہمارے لیے سخت وسست الفاظ استعمال میں نہیں لائے ،مدرسے کی زندگی میں ایک شرارت پر ہم کچھ ساتھی پھنسے معاملہ آپ ہی کے ہاتھ میں تھا اور پٹائی ضروری تھی ،میں رات بھر پریشان رہا کہ صبح انہونی ہوکر رہے گی ،مگر حسن اتفاق کہ معاملہ دوسرے استاذ کے سپرد ہوگیا۔

طلبہ کی رخصتوں کے معاملے میں بھی آپ سخت تھے طبیب جامعہ ہونے کی وجہ سے ہرایک کی حالت سے بخوبی واقف تھے کہ رخصت کے لائق کون ہے اور کون نہیں ابتدائی دنوں میں ایک بار ایسا ہی ہوا کہ معمولی علالت یا ہلکی ضرورت کو بنیاد بناکر میں رخصت لینے گیا اور ناکام واپس ہوا ،دل نے جب ٹھان لیا تو رخصت کے بغیر چین نہ آیا ،گھر چلاگیا بڑھاچڑھاکر بھابھی صاحبہ کے سامنے موضوع کو رکھا محترمہ نے پرزور سفارش کی تو انہیں زبردست ڈانٹ ہوی جس کا مجھے دکھ ہوا اور میں نے اس راہ سے رخصت لینے سے توبہ کرلی ۔جماعت سوم میں مدرسے کی تعلیم سے میرا دل اچاٹ ہوگیا تو راہ بدل لینے کی سوچ کر آپ کے آگے بات رکھی ،بڑی سنجیدگی سے مسئلے کو لیا خاندانی روایتوں کے حوالے سے مدرسہ ہی کی تعلیم جاری رکھنے پر اصرار فرمایا ،میں چونکہ ماننے کے موڈ میں نہیں تھا انکار ہی کرتا رہا تو آپ کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا فہمائش کے الفاظ واسلوب بدل گئے انداز اور آواز میں فرق آگیا تو میں کانپ کر رہ گیا اور بدل ناخواستہ تعلیم جاری رکھنے پر مجبور ہوگیا ۔سرکشی کی اس عمر میں آپ کا فیصلہ مجھے سخت ناگوار گزر(یہی وجہ ہے کہ جماعت سوم کے امتحان میں میرا نتیجہ معمولی سا تھا )مگر عقل وخرد کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد میں نے آپ کے حق میں بڑی دعائے خیر کی اگر آپ اس وقت سختی سے مجھے روکے نہ ہوتے تو کہہ نہیں سکتا میری زندگی آج کس ڈگر پر ہوتی اور میں کہاں کی خاک چھان کر ذلیل ہوتا ۔بھائی صاحب کے بتائے ہوئے راستے میں مجھے زندگی میں وہ سب نعمتیں بحمدللہ حاصل ہیں جن کے میں نے خواب بھی نہیں دیکھے اور اسی طرح اللہ کا فضل شامل حال رہا تو دوسری دنیا کی نعمتوں سے بھی ان شاء اللہ محرومی نہیں رہے گی ۔ ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان ۔

۱۹۶۱ ء کے اوائل میں عمرآباد سے فراغت کے بعد پہلی بار دہلی بجنور کے طویل سفر پر میں تنہا جارہا تھا آپ نے زاد راہ کے طور پر ڈھیر ساری نصیحتوں کے ساتھ اشکبار آنکھوں سے الوداع فرمایا اور ایک نصیحت آپ نے یہ بھی فرمائی کہ شمالی ہند کے حدود میں ٹرین داخل ہو تو میں ٹوپی کہیں اسباب میں چھپادوں یہ بات آپ نے اس لیے تاکیداً فرمائی کہ جبلپور کا فرقہ وارانہ فساد اس وقت تازہ تھا اور اس کا خوف دلوں میں زندہ تھا اس نصیحت سے آپ کو ہم سے جو محبت ہے اس کے علاوہ آپ کی بصیرت اور دور اندیشی کا پہلو بھی نمایاں ہے ۔

ہماری والدہ مرحومہ عمر میں آپ سے کچھ ہی سال بڑی ہوں گی وہ آپ کو نام ہی سے بلاتی تھیں اور آپ انہیں اماں اماں کہتے تھکتے نہ تھے ،ان سے ملاقات کے لیے وقت نکال کر ضرور تشریف لاتے ،ان کے مسائل ومشکلات جانتے ،ان کے مشوروں اور ہدایتوں کو توجہ سے سنتے اور اہمیت دیتے اتفاق کی بات کہ ۱۹۷۳ء کے رمضان میں والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو آپ یہاں موجود نہ تھے مئو تشریف لے گیے تھے ،واپسی ہوی تو پہلے ہمارے ہی گھر آئے ہم لوگوں کو لے کر قبرستان تشریف لے گئے دیر تک قبر کے پاس کھڑے رہ کر لمبی دعائیں کیں ،چہرے بشرے سے آپ بہت دکھی لگ رہے تھے اماں کی یادوں اور باتوں کو ایک ایک کرکے یاد کرنے لگے ،ان میں کئی باتیں ایسی تھیں جن کا ہمیں بھی پہلی بار علم ہوا ،فرمایا کہ اماں میرا خیال رکھتی تھیں ابھی اسی رمضان میں مئو میرے نام خط لکھا تو مشورہ دیا کہ روزے نہ رکھوں کیونکہ طویل اور مسلسل علالت کے بعد طبیعت سنبھلی ہے ،روزے بعد میں بھی رکھ لئے جاسکتے ہیں پہلے مکمل صھت کی طرف توجہ دوں ،یہ کہہ کر فرمایا کہ اب کون ان سب باتوں کی طرف توجہ دلائے گا ،پھر رومال سے اپنی آنکھوں کے آنسو پونچھنے لگے اور ہم سب کو اتحادواتفاق کے ساتھ رہنے کی ترغیب دلاکر اپنے گھر رخصت ہوئے ۔

زمانہ اسی طرح گزرتا گیا ہم سب روزگار سے لگ گئے ،بال بچے والے ہوکر علیحدہ علیحدہ گھروں میں بلکہ اطراف واکناف میں پھیل گئے ،فاصلے آگئے تو ملاقاتوں میں بھی وقفے آگئے لیکن جب بھی گھر جاتا بہت خوش ہوجاتے بھابھی صاحبہ کو بلاتے کہتے دیکھوحافظ جی آئے ہیں کچھ کھانے کو لاو پینے کو لاؤ ،پھر بڑی محبت وشفقت کی باتیں کرتے ،علالت کے دوران عیادت کے لیے جاتا تو کبھی نیند میں بھی ہوتے تو بھابھی صاحبہ کہتیں دیکھئے حافظ جی آئے ہیں پھر آپ آنکھیں کھول دیتے ایک ہاتھ مصافحے کے لیے بڑھاتے دوسرے ہاتھ سے اپنے قریب بیٹھے کا اشارہ فرماتے ،غرض ایسی بے شمار یادیں حافظے میں محفوظ ہیں ان سب کو دہرانے کے لیے ایک دفتر درکار ہے ۔دل حیران ہے کہ کس کو یادرکھے اور کس کو بھلائے ایسی نیک نفس اور پاک طینت ہستیاں اب کہاں ملیں گی ہمیں تو ایسے چھوٹوں سے بھی یہ عزت ومحبت نہیں ملی اور ہم ہی حرمان نصیب تھے کہ ایسے بزرگوں کے قدرواحترام کا جو حق تھا اسے نبھانے میں بھی ناکام رہے ۔

ذھب الذین یعاش فی اکنافھم بقی الذین حیاتھم لاتنفع

مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد واپس ہوا اور دارالسلام میں میرا تقرر ہوا،اختتام سال پر دارالسلام کا سالنامہ اشاعت کے لیے تیار ہورہا تھا تو آپ نے عربی کا ایک مقالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ذرا غور سے پڑھ کر اسے ٹھیک ٹھاک کردو کوئی غلطی رہنے نہ پائے ،اس جملے کو سن کر میں پانی پانی ہوگیا جس شخصیت سے ہم نے ایک ایک لفظ لکھنا اور بولنا سیکھا آج وہ اس نالائق کو اس لائق سمجھ رہی ہے کہ اس کی تحریر میں خامیاں نکالے ،میں نے کہا وہ آنکھیں پھوٹ جائیں جن کو آپ کے مضمون میں غلطی نظر آئے ۔ 

بات سے بات نکلتی جارہی ہے اور کہیں ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی    

تمام   عمر   پڑھو   اور   ختم   نہ   ہو 

وہ اپنی یادوں کی ایسی کتاب دے کے گئے 

اخیر میں میں اس شہادت کے ساتھ اپنی بات ختم کرونگا کہ مرحوم نے یوں تو ساری ہی زندگی بڑی باصول ،بامقصد اور بامراد بسر کی لیکن تین چیزوں کے استعمال میں آپ کا کوئی ثانی مجھے نظر نہیں آیا ۔وقت ،علم اور مال کو آپ نے بہت صحیح استعمال کیا ،آپ کی حیات مستعار کا کوئی لمحہ ضائع نہیں گیا بڑی مصروف زندگی بسر کی ،وقت پر ہرکام انجام دیتے اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں کی صحیح تقسیم میں آپ کا جواب نہیں تھا ،زندگی میں گھڑی سے بے نیاز رہے مگر ہر کام بروقت اس طرح انجام دیتے کہ کوئی لمحہ آگے پیچھے نہ ہوتا اور قیمتی گھڑی باندھنے والے اپنا منھ دیکھتے رہ جاتے ۔اللہ نے آپ کے وقت میں بھی اتنی برکت دی تھی کہ کم سے کم وقت میں زیادہ کام انجام دے لیتے ،مال کا بھی یہی حال تھا ۔رجل قنعہ اللہ بما آتاہ  کی مثال تھے ،محدود آمدنی میں بھی اور وسعت کے بعد بھی کبھی کوئی پیسہ بے جا اور غیر ضروری مصرف میں نہیں خرچ کیا ،ضرورتمندوں اور ذوی القربی کے تعاون میں ہمیشہ پیش پیش رہے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے وقت کی طرح مال میں بھی بڑی برکت عطا فرمائی تھی اونچی تنخواہ اور بڑے کاروبار کے لوگ بھی رشک کی نگاہوں سے آپ کو دیکھتے تھے ،علم کا حال تو مت پوچھئے ۔پوری زندگی ہی سیکھنے سکھانے کے لیے وقف کررکھی تھی ،درسی کتابیں پڑھاتے ان کا پورا حق ادا کرتے ،خارجی اوقات میں کمزور طالب علم کو اور یونیورسٹی کے طلبہ کو خود بلاکر ان کے نصاب کی کتابیں حل کراتے ،فرصت کے اوقات میں گھر کے بچوں کو قرآن مجید اردو ،دعائیں ،اذکار ،اسلامی آداب اور ان کی تعلیم کا آموختہ سننا یہ سب آپ کے فرائض میں داخل ہوتا ۔علالت کے دوران فریش رہ کر بھی اس معمول میں فرق نہ آنے دئیے ۔وعظ وتذکیر اور خطبات وتقریر کے ذریعہ تو آپ کی خدمات کا اعتراف صرف سامعین ہی کو نہیں زمان ومکان کے لمحات اور درو دیوار کو بھی ہے ،کلمہ ٔ  حق واصلاح سننے سنانے کے لیے آپ کی طبیعت بے چین رہتی تھی ،زبان وبیان کے علاوہ قرطاس وقلم سے بھی آپ اس فریضہ ٔ حق کو انجام دینے میں بڑے مستعد رہے ۔ملک کے مشہور رسائل میں آپ کے نصیحت آموز مضامین ومقالات اس کے گواہ ہیں عمر کے آخری دور میں تنفس کی وجہ سے بولنا جب دشوار ہوتا تو مضامین ہی کی راہ سے اپنی آواز دور دراز تک پہنچاتے رہے ،اللہ کے دین کو سربلند دیکھنے اور اللہ کے بندوں کو دینی تعلیم سے آراستہ اور اسلامی آداب واخلاق سے وابستہ دیکھنے کی آپ کو سب سے بڑی آرزو اور تمنا تھی اور ایسی کسی بھی اطلاع سے آپ کا چہرہ کھل اٹھتا تھا ۔لوگوں کے دکھ اور سکھ میں پورے شریک وسہیم بن کر شامل ہوتے تھے ۔اور خود اپنے دکھ کا اظہار کسی سے نہ کرتے مرض کی شدید سے شدید کیفیت پر بھی کلمات شکر ہی زبان پر ہوتے ،تیمارداروں کو کم سے کم تکلیف ہو اس کا بڑا خیال رکھتے ،اپنی تکلیف کی روائیداد سے کسی کے عیش کو مکدرنہ کرتے ۔

غرض ساری زندگی خوبیوں کے دوش ہی پر گزاری جو بڑی کامیاب اور قابل رشک زندگی تھی ۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ انعم علیہ نعما سابغۃ 

وہ صورتیںالہی  کس  دیس  بستیاں ہیں 

اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں 


Comments

Popular posts from this blog

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئےاز محمد یوسف عبدالواحد عمری

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں از رئوف خیر