اردو میں مقبول عام ادب کے ترجمے کی روایت اور موجودہ منظرنامہ از ڈاکٹر فہیم الدین احمد
ترجمہ ان تمام شعبہ ہائے علم وفن میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں زبان کو ذریعہ اظہار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا میں ایسے کئی فنون ہیں جن میں زبان کا استعمال نہیں ہوتا،جیسے مصوری ، سنگتراشی وغیرہ وغیرہ ۔لیکن وہ علوم جن کا اظہار زبان ہی کے ذریعہ ہوتا ہے ان میں ترجمہ کی اپنی بالکل الگ اہمیت ہے۔ترجمہ اور زبان درحقیقت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ترجمہ اپنے اظہار کے لئے زبان کا سہارا لیتا ہے اور زبان دراصل خیال ، فکر اور تصورات کے ابتدائی اظہار کی ترجمانی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس بنیادی خیال کے مطابق زبان کی ہر مہارت ایک طرح سے ترجمہ کے عمل سے گزرتی ہے۔ اگر مذکورہ بالابیان کو مان لیا جائے تو اس میں مزید توسیع اس طرح کی جاسکتی ہے کہ ترجمہ ایک کثیر جہتی عمل ہے جو لسانی و تہذیبی بھی ہے اور مسلسل و متناقص بھی۔اس مفہوم کے مطابق ترجمہ کا وسیلہ زبان ہے اور اس کا مواد تہذیبی ہے۔ لیکن یہ ساتھ ہی ساتھ متناقص بھی ہے کیوں کہ یہ بیک وقت اصل مواد کو تبدیل بھی کرتا ہے اور اس کو محفوظ بھی کرتا ہے۔یہ قدامت پسند بھی ہے اور جدت پسند بھی۔ حقیقت میں یہ ایک دوطرفہ عمل ہے جو یک سطحی نظر آتا ہے۔ ...