کلامِ اقبال میں قرآنی تلمیحات از ڈاکٹر ایس۔محمد یاسر،

 علامہ اقبالؔ کا شمار بیسویں صدی کے ایسے شعراء میں ہوتا ہے ، جنہوں نے کلامِ الٰہی ’قرآنِ مجید ‘ سے اپنے والہانہ لگاؤ اور شغف کی وجہ سے اپنے کلام میں قرآنی الفاظ ‘ اشارات‘ تلمیحات اور قرآنی فکر کو پیش کیا ۔ بلاشبہ علامہ اقبالؔ اردو کے صفِ اول کے ممتاز اور نمائندہ شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں‘ جو اس لحاظ سے انفرادیت کے حامل ہیں کہ ان کے ہاں ’کتابِ الٰہی ‘ سے غیر معمولی شغف پایا جاتا ہے۔ 

’’کلامِ الٰہی ‘‘ سے اپنے فکر وفن کو مزین کرنے کے سلسلہ میں‘ نہ صرف اردو ‘ بلکہ بشمول عربی ‘ دنیا کی کسی بھی زبان میں کوئی شاعر علامہ اقبال ؔ کی ہمسری کا مدعی نہیں ہے ۔ خاص طور پر قرآنی لفظیات ‘ قرآنی اشارات‘ قرآنی تلمیحات‘ قرآنی تفہیمات کے بارے میں تو جو مقام علامہ اقبالؔ کوحاصل ہے ، وہ صرف انہیں کے حصے میں آیا ہے ۔

علامہ اقبالؔ اپنی افتادِ طبع ، مناسبتِ مزاج، فکری رجحان اور قلبی میلان کے باعث کلامِ الٰہی سے حیرت انگیز طور پر غیرمعمولی شغف وانہماک رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے افکار اور خیالات کو کلامِ ربّانی سے اخذ کیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کے ہاں شعوری یا غیر شعوری طور پر قرآنِ مجید کے الفاظ ، معانی و مفاہیم کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ آپ کے ہر دور کے کلام میں آیاتِ قرآنی کے الفاظ ، قرآنی اشارے اور قرآنی تعبیرات ملتی ہیں۔

علامہ اقبالؔ کے کلام کے مطالعہ کے دوران یہ احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے جن اشعار میں ملت کے نام ’قرآنِ کریم‘ سے شغف کا پیغام دیا ہے‘ اس سلسلہ میں وہ خود بھی پیش پیش ہیں: 

قرآں میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں

اللہ کرے تجھ کو عطا جدّتِ کردار

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآں

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

 اب میری امامت کے تصدّق میں ہیںآزاد

محبوس تھے اعراب میں قرآن کے

  ہرچند کہ اردوزبان اپنے مزاج اورمنہاج کے لحاظ سے اسلامی تلمیحات اور قرآنی لفظیات سے مختلف سطحوں پر ہم آہنگ ہے، تاہم بیسویں صدی کے اوائل ہی میں علامہ اقبالؔ کے ذریعہ اردو شاعری میں ایک نئے آہنگ کااضافہ ہوا، جو اپنی ساخت اور بنیاد کے لحاظ سے کافی مضبوط، مستحکم اور توانا تھا۔۔۔ اور یہیں سے علامہ اقبالؔ فکری و فنی سطح پر اپنی انفرادیت بھی حاصل کرنے لگتے ہیں، اور ان کے فلسفیانہ افکار و خیالات، اپنی تمام علمی، تاریخی و استدلالی بصیرت کے ساتھ الہٰیات، قرآنیات اور اسلامیات کے امتزاج کے ساتھ ساتھ فارسی و اردو شاعری کی بیش بہا فنی روایات، لفظیات اور استعارات و تلمیحات کے ہمراہ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

بلاشبہ علامہ اقبالؔ نے ہمارے شعری ذخیرہ میں موجود لفظیات و معنیات سے اضافہ کیاہے ۔ ان کے ہاں تخلیقی بصیرت نے نیا لفظی نظام تشکیل دیا ہے ۔ نئی اصلاحیں، مخصوص تعبیرات، منفرد علائم، نادر ترکیبیں، خاص اشارات اور شخصی استعارات، یقینا اقبالؔ سے عبارت ہیں۔

جہاں تک تلمیحات کا تعلق ہے، علامہ اقبالؔ نے اردو شاعری میں موجود تلمیحات کو اپنے افکار کے مخصوص سیاق و سباق میں استعمال کرکے ان تلمیحات کے مفاہیم کو وسعتیں عطاکردی ہیں۔ مثلاً اقبال کا یہ شعر   ؎

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کاطلسم

عصانہ ہو تو کلیمی ہے کارِ  بے  بنیاد  !!

حضرت موسیٰ کالقب کلیم اللہ ہے اور عصا آپ کو بطورِ معجزہ عطاکیاگیاتھا، لیکن اقبالؔ نے اس شعر میں ’’عصا‘‘ اور ’’کلیمی‘‘ کو جن تلمیحی معنوں میں استعمال کیاہے، وہ اقبالؔ ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔

درجِ بالا شعر فکری اور فنی بنیادوں پرجس طرح استوار کیاگیاہے، وہ اقبالؔ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ فنی اعتبار سے تو تلمیح کی جلوہ گری اور تلمیح کے متعلقات کااستعمال ہی خصوصی اہمیت کاحامل ہے کہ اگر یہاں صرف ’’عصا‘‘ مذکور ہوتااورکلیمی کاحوالہ نہ ہوتا تو شعر کی ترسیل مکمل نہ ہوتی۔ اگر صرف کلیمی کا حوالہ ہوتااور عصا کاتلازم نہ ہوتا تو بھی بات ادھوری رہ جاتی۔

شعر کے مصرعۂ اولیٰ میں مذکور’’رشی‘‘ اور ’’برہمن‘‘ کے اشارے بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ رشی اپنی فاقہ کشی پر مجبور ہے اور مدِ مقابل برہمن کاطلسم بجائے خود نہایت مضبوط اور مستحکم ہے۔ اس مصرعۂ اولیٰ کے بعد عصا اور کلیمی، جو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں، یہ ثابت کرتے ہیں کہ اضداد ہی سے حقائق مبرہن ہوتے ہیں اور حق و باطل میں معرکہ آرائی، دراصل ازل سے ابد تک کا نامختتم سلسلہ ہے۔ حق و باطل کے درمیان صف آرائی، جس میں حق کی فتح اور باطل کی شکست قطعی اور یقینی ہے۔ اسی مفہوم میں اقبالؔ نے کہاہے   ؎

ستیزہ کار ہے رہاہے ازل سے تاامروز

چراغِ مصطفوی  سے  شرارِ  بولہبی !!

گویا فکری اعتبار سے اقبالؔ حق و باطل کی معرکہ آرائی میں غلبہ اور فتح مندی کے لئے زورِ بازو، طاقت و جرأت، عزم و حوصلہ، دلیل و برہان، روحانی و مادّی وسائل کے استعمال پرزور دیتے ہیں۔ دراصل ’’عصا‘‘ ایک قوت کااشاریہ ہے اور اِسے اقبالؔ نے تلمیحی و علامتی پیرایہ میں استعمال کرکے کلیمی کے لئے اس کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ اگر کلیمی مطلوب ہے تو عصائے کلیم بھی لازمی ہے، ورنہ خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔

اقبالؔ نے اس شعر میں رشی اور برہمن کے فرضی تصادم سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ بغیر و سائل کے محض فاقہ کشی اور جفاکشی سے کوئی نتیجہ خیزی نہیں ہوسکتی کیوں کہ برہمن نہایت مضبوط اور طاقتور تھا کہ رشی اس کاکچھ نہیں بگاڑ سکا۔لیکن یہی کیفیتِ تصادم جب حضرتِ کلیم کو درپیش ہوئی تو معجزۂ الٰہی ’’عصا‘‘ کی شکل میں موجود تھا۔ لہٰذا فرعونیت اپنے انجام سے دوچار ہوئی۔

فکری وفنی سطح پر یہ شعر جتنا مکمل اور اپنی جگہ ترسیل میں کامیاب ہے۔ اس کاتعلق تأثر آفرینی سے ہے۔ تحیر، تجسس اور تہہ داری کابے مثال نمونہ ہے۔ لیکن تأمل سے اس کے مفاہیم اور ’’تلمیح‘‘کی جلوہ گری صاف محسوس کی جاسکتی ہے۔

اِسی ضمن میں اقبالؔ کاایک شعر پیش کیاجاسکتاہے جو نظم ’’فنونِ لطیفہ‘‘ میںمشمول ہے۔ کہتے ہیں ؎

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں

جو ضربِ کلیمی نہیں  رکھتا وہ ہنرکیا؟

یہاں علامہ اقبالؔ نے عصائے موسیٰ کی تلمیح ’’ضربِ کلیمی‘‘ سے بیان کیہے۔ وسیع ترمعنوں میں یہاں شاعرکامقصود یہ ہے کہ فن اور ہنر ریاض کا طالب ہے، جس کے بغیر کوئی کمال نہیں حاصل ہوسکتا۔شاعر کاموضوع ’’فنونِ لطیفہ‘‘ ہے، جس سے متعلق شاعر نے یوں بھی اظہارِ خیال کیاہے کہ

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

اور فنونِ لطیفہ سے متعلق یہ مصرعہ تو ضرب المثال کی حیثیت اختیار کرچکاہے۔ ع

معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود

گویااقبالؔ نے ہنرمندی کے لئے ’’ضرب کلیمی‘‘کو لازمی قراردے کرتلمیحی معنوں میں تہہ داری پیداکی ہے۔ ضربِ کلیمی کی معنویت، عصائے موسیٰؑ کی معجزانہ حیثیت اور اس کی افادیت سے عبارت ہے۔

یہاں اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ اقبالؔ کے ہاں ضربِ کلیمی کے بغیر معجزۂ جن کی نمودنہیں ہوسکتی اور ضربِ کلیمی سے جو ہنرمحروم ہو، وہ ہنر نہیں ہوسکتا۔ شایداقبالؔ نے اپنے مجموعۂ کلام ’’ضرب کلیم‘‘ کو بھی اسی تناظر میں موسوم کیا۔

اقبالؔ کے ہاں ’’ضربِ کلیمی‘‘ خودی کے عرفان و ادراک کانتیجہ ہے۔ جس کے لئے عرفانِ ذات، عرفانِ نفس اور قوتِ عمل کی تحریک ضروری ہے۔ اقبالؔ نے اپنے فلسفۂ خودی کو’’ضربِ کلیمی‘‘ پر منتج کرنے کے لئے دعوتِ فکروعمل یوں دی ہے۔   ؎  

ہزار چشمے ترے سنگِ راہ سے پھوٹے

خودی میں ڈوب کے ضربِ کلیم پیداکر

اقبالؔ کے ہاں بطور خاص حضرت موسیٰؑ علیہ السلام اورآپ کے معجزات کی تلمیحات قدرے زیادہ ملتی ہیں۔شاید اس کی بدیہی وجہ یہی ہے کہ قرآن مجید میں اس ضمن میں تفصیلات زیادہ ہیں اور موسیٰؑ اور فرعون کاتصادم گویا معرکۂ خیروشر اور رزم گاہِ حق وباطل ہے۔

موسیٰ علیہ السلام، شبالی وادیٔ سینا، کوہِ طور، ذوقِ تکلم، اَرنی، لن ترانی، عصائے موسیٰ ؑ، ضربِ کلیم، یدِ بیضاء، فرعون، سامری وغیرہ ایسے جلی عناوین ہیں، جن سے تلمیحاتِ قرآنی کامعتدبہ حصہ عبارت ہے۔

اقبالؔ نے اپنے فکر کو حسن و عشق، عقل و دل، عقل و عشق کے تقابل، تصادم اور مقابلۂ آرائی کی مختلف جہتوں سے منور کیاہے۔ کہتے ہیں: ؎  

خیمہ زن ہو وادیٔ تحقیق میں مانندِ کلیم

شعلۂ تحقیق  کو  غارتِ گرِ کاشانہ کر

اور حق و باطل کا معرکہ گویاموسیٰ ؑ و فرعون اور موسیٰؑ و سامری کے تصادم کاعلامتی اظہاریہ ہے۔ بقولِ اقبالؔ ؎   

خونِ اسرائیل آجاتاہے آخرجوش میں

توڑدیتا  ہے کوئی  موسیٰؑ طلسم سامری

جب حق وصداقت کی معرکہ آرائی باطل سے ہوتی ہے تو حق یدِ بیضاء، کلیم اللّھی اور ضربِ کلیمی کے اوصاف سے متصف ہوتاہے، جو فتح مندی سے ہمکنارکرتاہے ؎

رہے ہیں اور ہیںفرعون میری گھات میں اب تک

مگرغم کیا کہ  میری  آستیں  میں  ہے  یدِ بیضاء

حضرت موسیٰ ؑ کا زمانہ، جادو کے عروج کازمانہ تھا، جادوگروںسے آپ کا جو مقابلہ ہوا، قرآن میں مذکور ہے، نتیجۂ کار کے طورپر تمام جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اورفرعونیت کے علیٰ الرغم ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے۔

اس واقعہ کو اقبالؔ نے تلمیحی معنوں میں استعمال کیاہے کہ دورِ حاضر میں دانش مندی ایک سحر اور جادو کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ عقل و دانش، فہم و فراست، عقل وتدبر، فکروفلسفہ ایک جادو بن کر اذہان پر غالب آچکاہے اورکیفیت کچھ ایسی رونما ہوئی ہے کہ ساحرانِ فرعون نے جس طرح، حق سے تصادم کے لئے اپنے فن کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ بالکل اسی طرح الحاد ولادینیت، کفروطغیان، تمرّد وسرکشی نے علم وفن اور فکروفلسفہ کواتنا فروغ دیا ہے کہ’’سحرِ قدیم‘‘ کی یاد تازہ ہورہی ہے لہذا ضروری ہے کہ اہلِ حق بھی اپنے ہاتھ میں عصائے موسیٰ ؑتھام لیں اور اس معرکۂ ایمان و مادیت میں چوبِ کلیم سے کام لیں    ؎

تازہ پھر دانشِ حاضر  سے  ہوا سحر قدیم

گذر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیمؑ

کوئی اگر کلیم اللہّی صفات سے متصف ہوجائے تو وہی حالات دوبارہ پیش آسکتے ہیں، جو صرف کلیم اللہٰی سے مخصوص ہیں۔ یہاںاقبالؔ تلمیحی طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دورِ حاضر کے فرعون سے معرکہ آزما ہونے سے پہلے اوصافِ موسیٰؑ سے متصف ہوناضروری ہے۔ جیسے اقبالؔ کہتے ہیں ؎

مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی

اقبال ؔکے ہاں ایک عمومی فکریہ ہے کہ علم و دانش تحقیق کے طالب ہیں اور تحقیق و جستجو کہیں منتج نہیں ہوتی ۔ دل کا ربط وتعلق ذوق و وِجدان سے ہوتا ہے ۔ اقبال ؔ نے ایک نطم میں ’’عقل ودل ‘‘ کا مکالمہ بھی پیش کیا ہے۔ لہذا اقبال ؔ یہ دعوت دیتے ہیں کہ   ؎

خیمہ زن ہو وادئی سینا میں مانند کلیم 

شعلۂ تحقیق کو نحارت گر کا شانہ کرا

یہاں اقبالؔ نے واقعۂ موسیٰ کے ایک پہلو کو تلمیحی جہت میں استعمال کیا ہے۔ حضرت موسیٰ نے جس طرح وادئی سینا میں پڑاؤ ڈالا اور پھر جو واقعات پیش آئے ، انہیں صرف عقل ودماغ کی کسوٹی پرپرکھانہیں جاسکتا۔ 

قابلِ ذکر پہلویہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے اس واقعہ کی قرآنی تلمیح کو جن معنوں میں اقبالؔ نے استعمال کیا اور اس سے جو نتیجہ خیزی کا استدلالی پہلو انہوں نے پیش کیا۔ اس کی مثال پوری اردو شاعری میں مفقودہے۔

واقعۂ حضرت موسیٰ کلیم اﷲ کی تلمیح اردو میں صرف ’’ارنی‘‘ اور ’’لن ترانی‘‘ تک تغزل میں محدود تھی ، لیکن اقبالؔ نے اپنی قرآنی بصیرت ، شاعرانہ فنکاری اور چابکدستی سے قرآنِ مجید میں مذکور واقعے کی مختلف کڑیوں سے منفرد تلمیحات تخریج کیں اور انہیں اپنے مخصوص فکری سیاق وسباق میں استعمال کرکے امتیاز حاصل کیا ہے۔ 

علامہ اقبالؔ کے ہاں جو مخصوص قرآنی تلمیحات ملتی ہیں ، ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے مختلف قرآ نی قصص و واقعات بھی اہمیت کے حامل ہیں ۔

اقبال ؔ نے علم بلاغت جوبیان کی صنعت تشبیہہ کو بھی تلمیح میں استعمال کیا ہے ۔ تشبیہہ تمثیل کی ایک شاندار مثال ، نظم ’’خضرِ راہ‘‘ کا درجِ ذیل شعر بھی ہے، جس کا پس منظر تلمی سے عبارت ہے  ؎

آگ ہے،اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

درجِ بالاشعر میں جس عمدگی سے قرآنی تلمیح کو نظم کیا گیا ہے کہ اس میں ’’سہلِ ممتنع‘‘ کا وصف پیدا ہوگیا، اقبالؔ ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ ’اولادِ ابراہیم ‘ کے ذریعہ اقبالؔ فرزندانِ توحید کو فرضِ منصبی کا احساس دلاناچاہتے ہیں ۔’نمرود در اصل تمردوطغیان،ظلم و عدوان اورانکار و کفرا ن کی علامت ہے۔’’آگ‘‘آزمائش اور ابتلاء کی علامت ہے۔’’کیا کسی کو پہر کسی کا امتحان مقصود ہے؟‘‘

          ایک اور جگہ اقبال نے اسی قرآنی تلمیح کو نہایت مؤثر طور پر پیش کیا ہے۔جوابِ شکو ہ میں کہتے ہیں  

آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا 

آگ کر سکتی ہے اندازِ  گلستاں  پیدا 

  یہاں یہ تصریح بھی ضروری ہے کہ اقبالؔ کے ہاں قرآنی تلمیحات کا استعمال صرف فنی بنیادوں پر نہیں بلکہ فکری اور شعوری سطحوں پر ہوا ہے۔قرآنی تلمیحات کا استعمال کوئی علم بلاغت ،علم معانی کی تکنیک نہیں کہ جسے فنکار محض اپنے فنی رکھ رکھاؤ تجربے اور مشق سے حاصل کرسکے۔قرآنی تلمیحات کے استعمال کے لئے قرآنی فکر سے آہنگ ہونا پڑتا ہے۔قرآن کریم کو اپنے شعور میں جزو ِمزاج کے طور پر پیوست کرنا پڑتا ہے۔یہ تمام کوشیش شعوری طور پر کسبی بھی ہوتی ہیں اور قدرتی طور پر وہبی حیثیت سے عطا بھی کی جاتی ہیں،اور یہاں ہمارا استدلال یہ ہے کہ علامہ اقبالؔ وہبی اور کسبی دونوں حیثیتوںسے اس نعمت سے مالامال تھے۔

اسی طرح علامہ اقبالؔ نے اپنے کلام میں بہت سے مقامات پر حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی آز مائشوں اور امتحانوں کا ذکر کیا ہے۔جن میں سب سے اہم آزمائش فرزندِ ارجمند کی قربانی سے متعلق تھی ۔اقبالؔ کہتے ہیں   ؎

یہ فیضان ِنظر تھا یا کہ مکتب کی  کرامت  تھی  !

سکھائے کس نے اسماعیل کو  آدابِ فرزندی؟

بہ اعتبارِ مجموعی اقبالؔ کے ہاں جو مخصوص تلمیحات ملتی ہیں ،ان میں حضرت موسی علیہ اسلام اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے متعلق مذکور قرآنی واقعات کی تلمیحات زیادہ ہیں ۔

اگرچہ کہ اقبالؔ کے ہاں حضرت آدم علیہ اسلام سے متعلق تلمیحات بھی نسبتاً زیادہ ہیں،تاہم بالعموم اقبالؔ کے ہاں قرآنی تلمیحات میں حضرت موسی علیہ اسلام اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام سے متعلق تلمیحات کا دائرہ قدرے وسیع تر ہے۔

ایک جگہ اقبالؔ نے سنیماکو’’ صنعت ِ آذری‘‘ سے تعبیر کیا ہے ہر چندکہ اقبالؔ نے یہاں بھی تلمیحی معنوں ہی میں استعمال کیا ہے لیکن اسے صنعتِ آذری سے تشبیہہ قرار دینا ہی زیادہ صحیح ہے۔

علامہ اقبالؔ کے کلام میں قرآنی تلمیحات کا جو و فور اور تلمیحات کے استعمال میں جس فراخدلی سے کام لیا ہے اس کے پیش ِ نظر یہی کہا جاسکتا ہے کہ اردو زبان میں اس سلسلہ میں کوئی شاعر علامہ اقبالؔ سے ہم سری کا مدعی نہیں ہے۔ بلکہ بشمول عربی دیگر زبانوں میں بھی قرآنی تلمیحات کے معاملہ میں اقبالؔ کی انفرادیت مسلم ہے۔

اقبالؔ کے ہاں قرآنی اشارات ،قرآنی تعبیرات قرآنی استعارات اور قرآنی لفظیات بھی ملتے ہیں۔لیکن سب سے اہم ’’قرانی تلمیحات ‘‘ ہیں کہ آپ نے تلمیحات کو نئی جھتوںاور جدید معنیاتی أبعاد میں استعمال کیا ہے۔

تلمیحات کو استعمال کرنے والا شاعر اگر تلمیح کے اطلاق کووسعت دینا چاہے اور تلمیح کے نئے نئے افق روشن کرے،تو تلمیح کے امکانات کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہو جاتا ہے،جس کی نمایاں مثال ہم علامہ اقبالؔ کے کلام سے پیش کرسکتے ہیں ۔ بلاشبہ اقبالؔ نے قرآن مجید کی تلمیحات کو اپنے اردو کلام میں نہ صرف نئی نئی جہات سے ہم کنار کیا ہے بلکہ حکمتِ قرآنی سے اپنے اشعار کو مزیّن کرکے ان کی حیاتِ جاودانی کا سامان بھی کردیا ہے۔

’’کلام ِ اقبالؔ میں قرآنی تلمیحات کے جائزہ‘‘کے تحت یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اقبالؔ کے ہاں قرآنی تلمیحات ایک نئے جہانِ لفظ و معنی کے ساتھ جلوہ گر ہیں، اور بیسیوں اشعار کی عمارت ہی قرآنی تلمیح کی بنیاد پر کھڑی ہے۔

علامہ اقبالؔ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ابراہیم ؑ وغیرہ سے متعلق تلمیحات پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔اور ان تلمیحوں سے بے شمار اشعار ترتیب دئیے ہیں ۔علاوہ ازیں قرآنی تلمیحات کو اقبالؔ نے اپنے مخصوص فکری وفنی تجربات سے ہم آہنگ کرکے لازوال بنادیاہے۔

کلام اقبالؔ میں قرآنی تلمیحات کا جائزہ انہیں نکات پر منتج ہوتاہے۔


Comments

Popular posts from this blog

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئےاز محمد یوسف عبدالواحد عمری

ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گرگئی از حـضرت مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں از رئوف خیر